اس درس کے اہم نکات:
عالَم کی تخلیق میں خدا کے اس ابداعی فعل سے کیا مراد ہے؟
کیا اس عالَم کی تخلیق میں خدا پہلے سے موجود کسی ازلی مادے یا نمونے کا محتاج تھا؟
خطبہ میں مذکور “لامن شیء” سے کیا مراد ہے؟
بیبیؑ کا یہ جملہ کس اشکال اور شبھی کا جواب بن رہا ہے؟

مولانا نوید حسین مطہری